زمانے کے حادثات سے بچنے کے لیے صبح وشام کی دعاؤں کی حفاظت گاہ سے بڑھ کرکون سی حفاظت گاہ ہے، جس کی طرف آپ جانا چاہتے ہیں۔
خدانخواستہ ایسا نہیں ہے کہ کوئی بندہ اللہ سے اپنے دشمنوں کی ہلاکت کی اپیل کرے اور اللہ تعالی اسے بے یار ومددگار چھوڑ دے۔
نہیں، صرف اتنا ہی نہیں ، بلکہ صبح وشام کے اذکار پر پابندی سے انسان ہمیشہ درجات و حسنات کی بلندیوں کو چھوتا چلا جاتا ہے۔ [نوٹ: لفظ : ’’أصبحنا ، أصبح ‘‘کو شام کے وقت ’’أمسینا ، أمسی‘‘ سے بدلا جائے اور اسی طرح لفظ :’’هذا الیوم‘‘(آج کے دن )کو’’هذا الیلة‘‘ (آج کی رات) سے بدلاجائے۔ جہاں کہیں بھی تبدیلی کی ضرورت پیش آئی ہم نے اسے مختلف رنگوں میں ظاہر کر دیا ہے۔]
اے ذکر کرنے والے! ان دعاؤں سے قبل یہ بات یاد رکھیے کہ ان دعاؤں کے پڑھنے والے بہت ہیں، لیکن وہ لوگ کہاں ہیں ،جو ان سے اپنی حفاظت کرتے ہیں ، اور اپنی عقل کو ان سے غذابہم پہنچاتے ہیں، اور جب ان کا وقت داخل ہو جائے، تو اپنی روح کو ان سے سیر کرتے ہیں، چہ جائے کہ اپنا وقت فضو ل لغویات میں ضائع کردیں؟
اس بات سے گریز کیجیے کہ آپ صرف و صرف ان کو بس اپنی آنکھوں سے دیکھنے، یا زبان کی لذت یا ہونٹوں کی چاشنی پر ہی اکتفاکریں اور ان کے مضامین اور معانی پر غور نہ کریں۔
اپنی کمزوری اور ضرورت کی فکر کیے بغیر اور جس سے یہ کہا جا رہا ہے اس کہ قوت کو سوچے بغیر
اپنے گناہوں اور اللہ کی رحمت کے بارے میں سوچے بغیر
انہیں مظبوطی سے تھام لیجیے اور اس پر اللہ کی تعریف کیجیے تاکہ شکر گزاروں میں شامل ہوسکو۔