وِرْدُ الكرب والهمّ

٢) «اللَّهُمَّ إِنِّي عَبْدُكَ، ابْنُ عَبْدِكَ، ابْنُ أَمَتِكَ، نَاصِيَتِي بِيَدِكَ، مَاضٍ فِيَّ حُكْمُكَ، عَدْلٌ فِيَّ قَضَاؤُكَ، أَسْأَلُكَ بِكُلِّ اسْمٍ هُوَ لَكَ، سَمَّيْتَ بِهِ نَفْسَكَ، أَوْ أَنْزَلْتَهُ فِي كِتَابِكَ، أَوْ عَلَّمْتَهُ أَحَداً مِنْ خَلْقِكَ، أَوِ اسْتَأْثَرْتَ بِهِ فِي عِلْمِ الغَيْبِ عِنْدَكَ، أَنْ تَجْعَلَ القُرْآنَ رَبِيعَ قَلْبِي، وَنُورَ بَصَرِي، وَجَلَاءَ حُزْنِي، وَذَهَابَ هَمِّي».

2) اے اللہ! میں تیرا بندہ ہوں، تیرے بندے کا بیٹا ہوں، تیری باندی کا بیٹا ہوں، میری پیشانی تیرے ہاتھ میں ہے، تیرا حکم مجھ پر جاری ہے، میرے بارے میں تیرا فیصلہ عدل پر مبنی ہے، میں تجھ سے ہر اس نام کے ساتھ سوال کرتا ہوں جو تیرا ہے، جس کے ساتھ تونے اپنا نام رکھا ہے، یا تونے اسے اپنی کتاب میں نازل کیا ہے یا اسے اپنی مخلوق میں سے کسی کو سکھایا ہے، یا اسے اپنے پاس علم غیب میں رکھنے کو ترجیح دی ہےکہ تو قرآن کو میرے دل کی بہار، میرے سینے کا نور، میرے غم کو دور کرنے والا اور میری فکر و پریشانی کو لے جانے والا بنا۔